آسام کے واقعات اور علماء کی گرفتاری پر سیکولر جماعتوں اور مسلم قائدین کی خاموشی افسوسناک
گلبرگہ، 30؍ستمبر (ایس او نیوز؍راست) کار گذار صدر مرکزی سیرت کمیٹی ضلع گلبرگہ ڈاکٹر محمد اصغر چلبل رکن عاملہ آل انڈیا ملی کونسل نے کل ایک اخباری بیان جاری کرتے ہوئے بتایا کہ آسام درنگ میں سالوں سے زندگی گذاررہے تقریباً1500سے زائد گھروں کو جبراً مسمار کیا گیا اور پولیس کی مدد سے حکومت آسام نے ہزاروں افراد کو بے گھر کر دیا۔ یہ کارروائی محض مسلمانوں کے گھرہونے کی وجہ سے پیش آئی ہے۔ اس کے ساتھ دو مساجد کو بھی شہید کر دیا گیا۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ بی جے پی کی زیر قیادت آسام حکومت کے وزیر اعلیٰ نے اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ مساجد کی جگہ پر وہ شاندار مندر تعمیر کریں گے۔ ڈاکٹر محمد اصغرچلبل نے مزید کہا کہ فرقہ پرست طاقتیں خاص کر آر ایس ایس، وی ایچ پی اور بجرنگ دل جیسی تنظیمیں پورے ملک میں ہندو مسلم تفرقہ پیدا کر کے نفرت اور تعصب کا ماحول پیدا کر رہی ہیں۔ پہلے یہ لیڈران اشتعال انگریز تقاریر کرتے تھے، لیکن اب انہیں کئی ریاستوں میں اقتدار حاصل ہوا ہے جس کی مدد سے قانون بنا کر اقلیتوں کو ہراساں اور نقصان پہنچانے کی کوئی کسر نہیں چھوڑ رہے ہیں۔ ڈاکٹر محمد اصغر چلبل نے مزید کہا کہ انہوں نے آسام کے ہائی کورٹ ایڈوکیٹ و صدر آل انڈیا لی کونسل آسام عبدالرشید چودھری سے فون پر تفصیلی بات کی اور وہاں کے حالات معلوم کئے۔ عبدالرشید چودھری نے بتایا کہ پوری حکومت اس انہدامی کارروائی میں راست طور پر ملوث ہے۔ ایک وفد نے ان کی صدارت میں وزیر اعلیٰ ہیمنت بسواس سے ملاقات کر کے ان سے کچھ دنوں کی مہلت مانگی تھی تاکہ ان تمام افراد کو دوسری جگہ منتقل کرسکیں۔ وزیر اعلیٰ آسام نے تیقن دیاتھا کہ ان کو کچھ نہ کچھ وقت دیا جائیگا، لیکن ایک ہفتہ بعد فوراً ایک دن پہلے نوٹس جاری کر کے تمام گھروالوں کو جگہ خالی کرنے کے احکامات جاری کئے۔ اس نوٹس کا کسی کو بھی علم نہیں تھا فوراً موقع پر پہنچ کر وہاں کی پولیس اور ڈپٹی کمشنر کے عملہ نے کارروائی شرع کی۔ جن میں کچھ شہید ہوگئے اور100کے قریب افراد زخمی ہوئے۔ دیگر ملی تنظمیں ان بے گھر افراد کی مدد کیلئے آگے آئیں ہیں اور رشید چودھری نے مزید بتایا کہ اس سلسلہ میں ہائی کورٹ میں بھی اس کی سماعت جاری ہے۔ ڈاکٹر محمد اصغر چلبل نے صدر جمہوریہ ہند سے فوراً مداخلت کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور وزیرداخلہ و گورنر سے اور خاص کر سپریم کورٹ کے جج کے ذریعہ اس منصوبہ بند انہدامی کارروائی کی تحقیقات کروانے کا مطالبہ کیا ہے۔ اصغرچلبل نے مزید کہا کہ آسام حکومت نے تمام قانونی اصولوں اور بین الاقوامی انسانی ذمہ داریوں کو نظر انداز کرتے ہوئے نہایت بے رحمی کے ساتھ ان افراد کو بے دخل کیا، جس کی وجہ سے یہ تمام افراد انہتائی خستہ حالات میں ہیں۔ انہیں فوری طور پر خوراک، ریلیف کیمپ اور قانونی مدد کی ضرورت ہے۔ یہ لوگ جمہوری طریقے پر مظاہرہ کر رہے تھے، جن پر پولیس نے سامنے سے گولی چلائی ہے، جس کے نتیجے میں دو افراد ہلاک اور کئی شدید زخمی ہوگئے۔ ڈاکٹر محمد اصغر چلبل نے معروف عالم دین مولانا کلیم صدیقی صاحب داعی اسلام جنہیں اُتر پردیش کی اے ٹی ایس نے تبدیلی مذہب معاملہ میں گرفتارکی ہے، اے ٹی ایس کی جانب سے ان کی غیر قانونی گرفتاری کی سختی سے مذمت کی ہے اور فوراً انہیں رہا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔اس کے علاوہ 10مزید شخصیات کو بھی گرفتار کیا جاچکا ہے، جن میں 6کے خلاف تفتیش جاری ہے۔ مولانا کلیم صدیقی کی گرفتاری پر جہاں عام لوگوں میں غم و غصہ کی لہر ہے وہیں مسلم طبقہ میں سیکولرفورسیز کے خلاف شدید ناراضگی دیکھی جارہی ہے، آخر کیوں سیکولرسیاسی جماعتیں مسلمانوں ں کے ووٹ حاصل کرنے کے باوجود اپنا رد عمل ظاہر نہیں کر رہے ہیں۔ کیا صرف مسلمان ہی مذمت و احتجاج کریں۔ ڈاکٹر محمد اصغر چلبل نے مزید کہا کہ ملک کے اقلیتوں کو خاص کر مسلمانوں کو سنجیدگی سے غورو فکر کرنا چاہیے کہ آخر کب تک ہم نام نہاد سیکولر سیاسی جماعتوں کا ساتھ دیتے رہیں گے۔ آسام کا معاملہ ہو یا پھر مولانا کلیم صدیقی صاحب کی گرفتاری کا معاملہ ہو، کسی پر بھی مسلم یا غیر مسلم سیکولرسیاسی قائدین کا مذمتی بیان تک نہیں آیا ہے۔ صرف مسلم ہی مذمتی بیانات اور احتجاجی جلسے کے ذریعہ اپنے غم و غصہ کا اظہار کر رہے ہیں۔ڈاکٹر محمد اصغر چلبل نے مزید کہا کہ ان حالات میں امت مسلمہ خاص کر ملی درد رکھنے والے افراد کو چاہئیے کہ وہ آگے آئیں اور ایک منظم منصوبہ کے ذریعہ ریاستی اسمبلیوں اور پارلیمنٹ میں مسلمانوں کی گھٹتی تعداد کو دیکھتے ہوئے ان کی تعداد کو ریاستوں کی آبادی کے حساب سے اراکین اسمبلی وپارلیمان کی تعداد بڑھانے کا کام کریں۔